ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چھتیس گڑھ کے دنتے واڑہ میں بی جےپی کے انتخابی قافلے پر نکسلائٹ کا حملہ؛ بی جے پی رکن اسمبلی کے ساتھ ساتھ پانچ جوانوں کی بھی موت

چھتیس گڑھ کے دنتے واڑہ میں بی جےپی کے انتخابی قافلے پر نکسلائٹ کا حملہ؛ بی جے پی رکن اسمبلی کے ساتھ ساتھ پانچ جوانوں کی بھی موت

Tue, 09 Apr 2019 23:01:46    S.O. News Service

رائے پور 9/اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) چھتیس گڑھ کے نکسل متاثرہ دنتے واڑہ  ضلع میں نکسلیوں نے ایک بی جےپی رکن اسمبلی کے قافلے پر حملہ کرتے ہوئے رکن اسمبلی بھیما منڈاوی سمیت ان کی حفاظت پر مامور پانچ جوانوں کو بھی موت کے گھات اُتار دیا ہے۔ حملے کی یہ واردات منگل  شام کو پیش آئی ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق  بھیما منڈاوی انتخابی تشہیر کے لئے بچیلی سے کنول کونڈا جارہے تھے کہ ریاست چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور سے 450 کلو میٹر دور شیاما گیری پہاڑی پر مائو وادیوں نے ان کی سواری کو دھماکے سے اُڑا دیا۔ بتایا گیا ہے کہ بعد میں  ماووادیوں نے  ان کے قافلے پر فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں رکن اسمبلی بھیما منڈاوی سمیت چھ  لوگوں کی موت واقع ہوگئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوع پر  مرکزی ریزرو فورس سمیت ریاستی  پولس کے دستے بھی   کثیر تعداد میں  پہنچ گئے  اور پورے علاقے کو گھیر لیا۔ بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں کو گھیرنے کے لئے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم جاری ہے۔ 

خیال رہے کہ  یہاں  لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ 11/اپریل کو ہوگی، جس کے  لئے آج منگل کو انتخابی تشہیر  کا آخری دن تھا۔

بتایا گیا ہے کہ چھتیس گڑھ میں اس سے پہلے بھی کئی بار نکسلی حملہ آور مرکزی ریزرو پولس فورس کے جوانوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں ۔ جولائی 2018 میں نکسلیوں  نے کانکیر ضلع میں بی ایس ایف کے جوانوں پر حملہ کیا تھا،  جس میں بی ایس ایف کے دو جوان ہلاک ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے 13 مارچ 2018 کو  ریاست کے سُکما ضلع میں سی آر پی ایف کی 212 وی بٹالین کے جوانوں پر حملہ ہوا تھا جس میں 9/  جوانوں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل مئی 2013 میں چھتیس گڑھ کے سُکما ضلع میں  ایک ہزار سے زیادہ نکسلیوں نے کانگریس کی پریورتن یاترا پر حملہ کردیا تھا جس میں کانگریسی لیڈرس ودھا چرن شُکھلا، مہیندر کرما اور نند کمار پٹیل سمیت 27 لوگوں کی موت واقع ہوئی تھی جبکہ دیگر کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔

 


Share: